بنگلورو۔7؍ستمبر(ایس او نیوز)عوام اور کسانوں کی شدید مزاحمت کے باوجود ریاستی حکومت نے آج کرشنا راجہ ساگر ، ہیماوتی اور کبنی آبی ذخائر سے تملناڈو کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق 15؍ہزار کیوسک پانی جاری کردیا۔ جس کی وجہ سے کاویری طاس کے علاقوں میں کسانوں اور عوام نے سڑکوں پر اترکر احتجاجی مظاہروں میں شدت پیدا کردی ہے۔آج منڈیا، میسور، چامراج نگر، بنگلورکے علاوہ بلگام ، وجئے پور ، گدگ، داونگیرے اور ریاست کے دیگر اضلاع میں کاویری کے مسئلہ پر کنڑا تنظیموں کی طرف سے زوردار احتجاجات کا سلسلہ چلتا رہا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد سے ریاست میں احتجاج دن بدن شدت اختیار کرتا جارہاہے، کاویری طاس کے علاقوں میں پولیس کا معقول بندوبست کیاگیا ہے۔ کے آر ایس ، کبنی اور ہیماوتی آبی ذخائر سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے حکومت کے اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کسانوں ،رعیت تنظیموں ، کنڑا نواز تنظیموں وغیرہ کی طرف سے ان آبی ذخائر میں گھسنے کی کوشش کی گئی ، پولیس نے ان لوگوں کو احتیاطی طور پر گرفتار کرکے احتجاج کو ناکام بنایا۔ سری رنگا پٹن اور دیگر بعض مقامات پر کسان دریائے کاویری میں اتر گئے اور وہاں پانی میں کھڑے ہوکر ان لوگوں نے احتجاج کیا۔ بتایاجاتاہے کہ یہاں ایک کسان نے خود کشی کی کوشش بھی کی۔ بار بار آبی ذخائر کے قریب احتجاجات کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے تمام آبی ذخائر کے ایک کلومیٹر کے دائرہ میں امتناعی احکامات نافذ کردئے ہیں۔ کے آر ایس سے پانی بہانے کی مشینوں کے کمرہ پر کل کسانوں کی طرف سے تالا لگادئے جانے کے بعد آج حکام کو دوبارہ پانی فراہم کرنے میں دشواری پیش آئی، ساتھ ہی کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے آج میسور کو پانی فراہم نہیں کیاجاسکا۔ منڈیا میں کسانوں نے جابجا راستہ روکو احتجاج کیا اور ٹائر جلاکر اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا اور کہاکہ حکومت کی طرف سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنا درست نہیں ہے۔ بنگلور میں بھی جابجا احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ، کنڑا نواز تنظیموں نے کاویری کا پانی تملناڈو کو دئے جانے کی سخت مذمت کی۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں بھی اسی طرح کے احتجاجات اور ان احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے ٹریفک میں خلل کی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔منڈیا ، میسور اور چامراج نگر میں کسانوں کی طرف سے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کئے جانے کے سبب بنگلور سے ان علاقوں کیلئے ٹریفک نظام پوری طرح درہم برہم ہوگیا ہے۔بنگلور اور میسور کے درمیان ٹریفک پوری طرح بند ہوچکی ہے۔ اس دوران پچھلے تین دنوں سے کرناٹک اور تملناڈو کے درمیان سرکاری بسوں کی آمد ورفت کاجو سلسلہ بند کردیا گیا تھا وہ اب بھی برقرار ہے۔ تملناڈو میں کے ایس آر ٹی سی کی بعض بسوں پر پتھراؤ کی شکایات کے بعد کے ایس آر ٹی سی حکام نے ان بسوں کو روک دیاتھا۔